فهرس الكتاب

الصفحة 632 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر تاش کا کھیل نماز سے غافل نہ کرے اور اس میں پیسوں کا چکر بھی نہ ہو تو کیا یہ حرام ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تاش کا کھیل جائز نہیں ہے خواہ اس میں معاوضہ نہ بھی ہو کیونکہ یہ کھیل انسان کو اللہ کے ذکر اورنماز سے غافل کر دیتا ہے خواہ کھیلنے والا یہ گمان کرے کہ و ہ اس سے غافل نہیں ہوتا اور پھر یہ کھیل جوئے کا ذریعہ بھی ہے ، جو نص قرآن کی روشنی میں حرام ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

{یـٰأَیُّہَا الَّذینَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَیسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّیطـٰنِ فَاجتَنِبوہُ لَعَلَّکُم تُفلِحونَ 90} ... سورةالمائدة

''اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت او رپانسے ( یہ سب ) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ تم نجات پاؤ ۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص457

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت