فهرس الكتاب

الصفحة 2023 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میرا چچا زاد بھائی بینک الجزیرہ میں کلرک ہے۔ اسے بعض علماء نے فتویٰ دیا کہ وہ یہ ملازمت چھوڑ دے اور بینک کے علاوہ کوئی اور کام تلاش کرے۔ آپ کو اللہ بہتر جزا عطا فرمائے، ہمیں مستفید فرمائیے کہ آیا یہ ملازمت جائز ہے یا نہیں؟ (عمری۔ع۔ع۔ جدہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جس شخص نے اسے مذکورہ فتویٰ دیا، اس نے بہت اچھا کام کیا۔ کیونکہ سودی بینکوں کی ملازمت جائز نہیں۔ اس لیے کہ یہ گناہ اور سرکشی پر بنک کی اعانت ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:

{ وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـہَ ۖإِنَّ اللَّـہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ 2} ...المائدة

''اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔''

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ''آپ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں، سب پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔'' اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح میں نکالا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت