فهرس الكتاب

الصفحة 247 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا آزادی رائے کے یہ معنی ہیں کہ اہل خیر اور اہل شر دونوں کے لیے میدان کھول دیاجائے اور ہر ایک معاشرے میں اپنا اپنا ڈھول پیٹ لے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ بات باطل ہے'اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ واجب یہ ہے کہ باطل کو روکاجائے اور صرف حق کی اجازت دی جائے اور کسی ایسے شخص کو اجازت نہ دی جائے'جو اشتراکیت یابت پرستی ہازنا جوا وغیرہ کی بالواسطہ یا بلاواسطہ دعوت دے'ایسا کرنے والے کو منع کیاجائے گا اور ادب سلھایاجائے گا کیونکہ یہ حرام باحیت ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص391

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت