فهرس الكتاب

الصفحة 1698 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک دیہاتی مدرسہ دینی کےلیے محکمہ تعلیم سے گرانٹ ملتی ہے۔ایک واقف حال کا بیان ہے اگر امداد کی رقم منشیات کی آمد سے ملا کرتی ہے۔مینیجر سکول کہتا ہے۔ مجھے اس کا ٹائم نہیں اور تجسس کرنے سےمنع آیا ہے۔اس صورت میں وہ گرانٹ یعنی جائز ہے یانہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

شراب اور شراب کی آمدنی سب حرام ہے۔بیان مذکورہ صحیح ہونےکی صورت میں ایسی رقم کالیناجائز نہیں۔حدیث شریف میں ہے۔حدیث من اتقی الشہبات فقد استبرا لدینہ وعرضہ

1۔جب اقوال مختلف ہیں۔توحدیث مشترک المعنی ہوئی اور مشترک المعنی کی تعین کےلئے قرآن و حدیث سے کوئی قوی دلیل پائی جاوے تو قابل عمل ہے ورنہ نہیں۔(سعیدی(

2۔اپنی مرضی کا کوئی قول پسند کرنا کوئی دلیل نہیں (سعیدی)

3۔یہ حدیث مشترک المعنی ہے۔ تفسیر کی تعین کیلئے کوئی صریح حدیث یا صحابہ کا تعامل چاہیے۔ (سیعدی)

4۔جواز پر کوئی صریح حدیث نہیں۔اورعدم جواز پر حدیث۔۔۔صریح کل قرض جر منفعة فہوا ربا (سیعدی)

شرفیہ۔

اصل یہ ہے کہ سرکاری خزانے میں صرف شراب وغیرہ کی حرام آمدنی ہی نہیں ہوتی بہت قسموں کی آمدنی ہوتی ہے۔تاوقت یہ کہ تعین آمدنی گرانٹ ثابت نہ وہ ممنوع نہیں۔ ورنہ سرکاری ملازمت بھی حرام ہوگی۔حدیث واذ لیس فلیس

اہل کتاب سے جزیہ لینا کتاب وسنت سے ثابت ہے۔اوران کے مال میں ہر قسم کی آمدتھی۔اورشراب کی بھی تھی۔شرعًا اس کی تفتیش ثابت نہیں لہذا صورت مرقومہ میں منع کی دلیل نہیں پائی جاتی۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی)

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ نمبر 142)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 103

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت