فهرس الكتاب

الصفحة 382 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگرکو ئی بھتیجا اپنی چچی کے سا تھ زنا کر لے۔ اور دونوں اس سے توبہ بھی کر چکے ہوں۔گھروالےلڑکی (چچی کی لڑکی) کی شادی اس لڑکے ( بھتیجے) سےکرنا چاہ رہےہیں۔ چچی اوربھتیجےکےدرمیان اب کوئی ناجائز تعلق نہیں ہے۔ کیااس طرح کی شادی جائز ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جی ہاں یہ شادی ہو سکتی ہے۔کیونکہ اصول یہی ہے کہ کسی حرام کام کے ارتکاب سے کوئی حلال کام حرام نہیں ہوتا ہے۔

نبی کریم نے فرمایا:

«لا یحرم الحرام الحلال» (ابن ماجہ:2015)

حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرتا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ زناایک قبیح ترین گناہ ہے ،جس کا مرتکب اگر شادی شدہ ہو تو اس کی سزا رجم (پتھر مار مار کر قتل کرنا) ہے،اور اگر غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے ہے۔ خصوصا محارم کے ساتھ اس کی قباحت اور زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔ایسے شخص کو فورا ًاللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگنی چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت