فهرس الكتاب

الصفحة 1385 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بعض لوگ میت کے ساتھ جانور لے کر جاتے ہیں جسے وہ جدف کے نام سے موسوم کرتے ہیں تاکہ اسے قبرستان میں ذبح کر کے حاضرین میں تقسیم کر دیں۔ اسے قبرستان سے ایک سو میٹر کے فاصلہ پر ذبح کیا جاتا ہے یہ اونٹ' گائے یا بکری ہوتا ہے۔ امید ہے اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں گے۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

قبر کے پاس جانور ذبح کرنا اور یہ جسے جدف کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے حرام ہے کیونکہ اس سے مقصود عبادت اور تقرب ہوتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر اللہ کیلئے ذبح کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ فرمایا:

لعن اللہ من ذبخ لغیر اللہ» (صحیح مسلم)

''جو غیر اللہ کیلئے ذبح کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو''۔

اہل میت کا حاضرین کیلئے کھانا تیار کرنا سنت نہیں ہے بلکہ سنت یہ ہے کہ اہل میت کیلئے کھانا تیار کیا جائے کیونکہ سنت سے ثابت ہے کہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی جب خبر آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آل جعفر کیلئے کھانا تیار کرو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص453

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت