السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
آج کل پردہ کےمتعلق ایک نئی صورت سامنے آئی ہےکہ عورتیں صرف ناک کی پٹی پر چادر لپیٹ لیتی ہیں آنکھیں اور چہرے کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے جس سے چہرے کی رنگت نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ اس کےمتعلق وضاحت کریں کہ آیا ایسا کرنا کتاب و سنت کے مطابق ہے؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
پردے کےمتعلق سوال میں مذکورہ صورت شرعی اعتبار سے صحیح نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا پردے کی حسب ذیل شرائط کےمنافی ہے:
٭برقعہ یا چادر تمام جسم کو ڈھانپ لے۔ *وہ چادر موٹی ہو باریک نہ ہو۔
٭کھلی ہوتنگ اور چست نہ ہو۔ *اسے زینت کےطورپر نہ پہنا گیا ہو۔
٭مردوں کے لباس کے مشابہہ نہ ہو۔ *اس پر خوشبو وغیرہ نہ لگی ہو،
پردہ میں چہرے کا ڈھانپنا ضروری ہے کیونکہ عورت کی شرافت اور پاکدامنی کی علامت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:''یہ پردہ عورت کےلئے اس کی شرافت کی علامت ہے تا کہ انہیں تنگ نہ کیا جائے۔'' (۳۳/الاحزاب:۵۹)
اس بنا پر سوال میں ذکر کردہ پردے کی صورت کتاب و سنت کےمطابق نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اصحاب الحدیث
ج2ص406