فهرس الكتاب

الصفحة 2028 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا ترقیاتی بینک سے قرض لے کر بنائی ہوئی عمارت کو وقف کرنا جائز ہے۔ جو ہمیشہ کے لیے بینک کے آگے گروی رہتی ہے؟ (علی۔ ع۔ الریاض)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اس مسئلہ میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ جو ایک دوسرے مسئلہ پر مبنی ہے اور وہ یہ ہے کہ آیا قبضہ کے بغیر رہن ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ جو شخص اس بات کا قائل ہے کہ قبضہ کے بغیر رہن ہوتا ہی نہیں، وہ یہ کہتا ہے کہ ان تصرفات سے وقف وغیرہ صحیح ہوتا ہے جو ملکیت کو بدل سکیں۔ کیونکہ رہن باقبضہ نہیں اور جو اس بات کا قائل ہے کہ رہن لازم ہوجاتا ہے اگرچہ مرہونہ چیز قبضہ میں نہ ہو۔ وہ ایسے وقف کو نیز دوسری ملکیت کو بدل سکنے والے تصرفات کو درست نہیں قرار دیتے۔ اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ محتاط روش یہی ہے کہ جب تک بینک کا حساب بے باک نہ کیا جائے اسے وقف نہ کیا جائے۔ تاکہ اس میں علماء کے اختلاف کی بات ہی نہ رہے اور اس حدیث شریف پر عمل ہو سکے۔ المسلمون علی شروطھم (یعنی مسلمان کو اپنی شرطیں پوری کرنا لازم ہے)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت