فهرس الكتاب

الصفحة 631 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کچھ لوگ تاش کے پتوں سے کھیلتے ہیں اور اس طرح کے بعض کھیلوں میں وہ بسا اوقات یہ شرط بھی لگا لیتے ہیں کہ جو شکست کھا گیا وہ اس قدر مال ادا کرے گا یا جوس خرید کر پلائے گا یا اس طرح کی کوئی اور شرط لگالیتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے ؟ فتوی عطا فرمائیں اللہ تعالی آپ کو اجر و ثواب سے نوازے گا ، نیز جو لوگ اس طرح کا کھیل کھیلتے ہیں ، انہیں نصیحت بھی فرمائیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ کام حرام ہے جو قطعا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:

«لَا سَبَقَ إِلَّا فِی خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ، أَوْ نَصْلٍ»

(سنن ابی داؤد ،الجہاد ، باب فی السبق ،ح: 2574 وجامع الترمذی:الجہاد ،باب ماجاء فی الرہان والسبق، ح:1700 وسنن النسائی ، الخیل ،باب السبق ح 3616 واللفظ لہما)

''مقابلہ صرف تیر اندازی یا اونٹ یا گھوڑے دوڑانے میں ہے ۔''

مذکورہ بالا صورت بلا شبہ اس جوا کی ہے ، جسے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حرام قرار دیا اور شراب او ربتوں کی پوجا کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

{یـٰأَیُّہَا الَّذینَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ‌ وَالمَیسِرُ‌ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِ‌جسٌ مِن عَمَلِ الشَّیطـٰنِ فَاجتَنِبوہُ لَعَلَّکُم تُفلِحونَ 90} ... سورةالمائدة

''اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت او رپانسے ( یہ سب ) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ، سو ان سے بچتے رہنا تاکہ تم نجات پاؤ ۔''

اس طرح کا کھیل کھیلنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کے حضور توبہ و استغفار کریں اور آئندہ یہ کھیل نہ کھیلیں ۔ اس طرح کے کھیل سے جو وہ کمائی کریں گے ، وہ حرام ہوگی اور قطعا حلا ل نہیں ہوگی ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ کھیل جو انسان کو خیر و بھلا ئی کے کاموں سے غافل کردیں ، یہ واقعی انسان کے لیے بعت بڑے خسارے کا سبب ہیں کیونکہ ان سے انسان کے بہت سے قیمتی اوقات ضائع ہو جاتے ہیں ۔عقل مند انسان جب اپنے مال کو بے فائدہ ضائع نہیں کرتا تو اسے اپنا قیمتی وقت تو بالاولیٰ ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت تو مال سے زیادہ قیمتی چیز ہے اور پھر نوجوانوں اور دیگر لوگوں کا اپنے قیمتی اوقات کو ان جیسے بے فائدہ کھیلوں میں ضائع کرنا ، بے حد حزن و ملال کا سبب ہوگا ۔ یہی وجہ کہہ بہت سے علماء نے اس طرح کے کھیلوں کومعاوضہ کے بغیر بھی حرام قرارا دیا ہے اور اگر ان میں معاوضہ کی اس طرح کی کوئی شرط ہو تو پھر ان کے حرام ہونے میں قطعا کوئی شک نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص456

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت