فهرس الكتاب

الصفحة 1773 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

حکومت بعض شعبوں کے ملازمین کی تنخواہ پر کچھ روپیہ منہا کر کے کچھ پاس سے خود ملا کر اپنے پاس جمع کر دیتی ہے۔اور اس پر لازمًا سود بھی لگاتی جاتی ہے۔آخر کار ریٹائر ہونے پر ملازم کو اصل رقم مع سود دے دیتی ہے۔کیا یہ سب کچھ جائز ہے۔ (بابو عبد الحمید راولپنڈی)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ملازم سرکار سے سب کچھ وصول کر لے بعد میں دیانت سے اپنی اصل رقم اور سرکار کا عطیہ الگ کرلے یہ حلال ہے اور اتنی میعاد میں جس قدر سود ملا ہے۔دل بڑا اور کڑا کر کے سود کی رقم منہا کر دے یہ سود کی رقم حرام ہے۔اس کا آٹا دانہ لے کر آزاد جنگلی جانوروں کو کھلا دے۔یا کسی دوسرے سود کے چکر میں پھنسے شخص کو دے کر اس سے صرف سود کے بوجھ کو اتار دے یا کسی بے حد غریب کو جس پر مردہ تک کھانا رو ا ہے اسے دے دے ہاں اگر ابتدا کسی صورت سرکار ہی سے سود نہ لے تو سب سے بہتر ہے مگر سرکار دیتی ضرور ہے اور یہی بڑی مصیبت ہے۔( اہل حدیث دہلی جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 6۔7(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 189

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت