فهرس الكتاب

الصفحة 1444 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں ایک ادارے کا مدیر ہوں۔ کچھ لوگ اپنے ،معاملات ختم ہونے پر مجھے بعض تحائف دے دیتے ہیں کیونکہ وہ میری ادارت سے مستغنی نہیں ہوسکتے کیونکہ انہیں پھر بھی کبھی نہ کبھی اس ادارے کی طرف رجوع کرنا پڑے گا تو کیا میں انہیں حسن نیت پر محمول کرتے ہوئے قبول کرلوں یا یہ بھی رشوت اور حرام شمار ہوں گے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آپ کے لیے واجب یہ ہے کہ ان تحائف کو قبول نہ کریں کیونکہ یہ رشوت کے حکم میں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان تحائف کے لالچ میں یا ان سے حیا کی وجہ آپ اس کے معاملات کو دوسروں سے مقدم قرار دیں ۔سنت سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے تحائف قبول کرنے سے منع فرمایا ہے۔

آپ اور آپ جیسے لوگوں پرواجب ہے کہ وہ اپنےکام میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور تمام لوگوں کی ضروریات کو پورا کریں 'جو پہلے آئے اس کے کام کو پہلے کریں یا جو کام زیادہ اہم ہو اسے زیاد ہ اہمیت دیں۔اپنی خواہش نفس ' دوستی اور رشتہ داری کی وجہ سے نہ تو کسی پر ظلم کریں اور نہ اس کے معاملہ کو مؤخر کریں تاکہ حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ پر عمل ہوسکے:

{إِنَّ اللَّہَ یَأمُرُ‌کُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلیٰ أَہلِہا... 58} ... سورةالنساء

'اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو ۔""

اور کامیاب ہونے والے لوگوں کے اوصاف کا تذ کرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

{وَالَّذینَ ہُم لِأَمـٰنـٰتِہِم وَعَہدِہِم ر‌ٰ‌عونَ 32} ... سورةالمعارج

'اور جو امانتیں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔""

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص373

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت