فهرس الكتاب

الصفحة 609 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کسی صاحب نے پوچھا ہے

یہاں بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑوں کو دوبارہ استعمال نہ کیاجائے تو پھر کیا کرنا چاہئے جبکہ دفن کےلئے جگہ بھی نہ ہو۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

رزق اور کھانے پینے کی اشیاء اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اس نعمت کی ناشکری بہت بڑا گناہ ہے۔ بچی ہوئی روٹی 'سالن یا کسی دوسری چیز کو پھینک دینا' یہ بھی ناشکری کےضمن میں آتا ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو سوکھی ہوئی روٹی کو بھی ترستے ہیں۔ کتنے ایسے مفلوک الحال ہیں جو مہینوں سالن کو ترستے رہتے ہیں اور کتنے ایسے غریب ہیں جو مہینوں پھلوں کی شکل نہیں دیکھتے یہاں بعض لوگ بچی ہوئی روٹی کے ٹکرے جانوروں کو کھلاتےہیں 'بعض چڑیوں جیسے پرندوں کےلئے باہر رکھ دیتے ہیں اور بعض دوبارہ کسی نہ کسی چیز میں استعمال کرلیتے ہیں۔ یہ تینوں طریقے درست اور مفید ہیں لیکن انہیں جلادینا یا پھر دفن کردینا مستحسن معلوم نہیں ہوتا۔ اگر مجبوری ہوتو الگ بات ہے لیکن اس کے باوجود کوشش کرنی چاہئے کہ اسے دوبارہ کسی مصرف میں لایا جائے ۔امور خانہ داری سے دلچسپی رکھنے والی خواتین خشک روٹی کو دوبارہ استعمال کرنے کےلئے متعدد طریقوں سے کام لیتی ہیں۔ بہرحال مجبوری کے بغیر جلانا یا پھینکنا جائز نہیں۔ اگر روٹی بچ جائے تو دوسرے وقت کم پکائیں اور بچی ہوئی ساتھ استعمال کرلیں اس میں نہ کوئی قباحت ہے نہ نقصان ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص564

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت