فهرس الكتاب

الصفحة 1440 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں"مبرد"ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں اور پھلوں اور سبزیوں کو مدینہ سے جدہ یا مکہ یا ریاض میں پہنچاتا ہوں اور جب میں پہنچ جاتا ہوں تو سبزیوں کا مالک مجھے ایک سویا دو سوریال دے دیتا ہے کیونکہ میں نے ان سبزیوں وغیرہ کو بہت جلد پہنچادیا ہوتا ہے اور کمپنی کے مالک کو بھی اس کا علم ہوتا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ ریال یا یہ اعزاز حلال ہے یا حرام؟ راہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرًا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہماری رائے میں اس نقدی کے لینے میں جسے سبزیوں کا مالک دیتا ہے اور کمپنی کے مالک کے علم میں ہے'کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے سبزیوں کا مالک آپ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے کہ آپ نے سبزیوں وغیرہ کو خراب ہونے سے پہلے جلد پہنچادیا۔آپ اس حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں کہ آپ نے خوب محنت سے کام کیا اور مال کی حفاظت بھی کی اور پھر دینے والا اپنی خوشی سے دے رہا ہے لہذا س کے لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے خواہ یہ آپ کی اس مزدوری سے زائد ہو جس پر آپ کام کرتے ہیں کیونکہ اس سے مقصود تو آپ کی حوصلہ افزائی ہے کہ آپ نے ذمہ داری کے ساتھ جلد مال پہنچادیا اور مال کے مالکان کی مصلحت کا خیال رکھا،۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص370

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت