فهرس الكتاب

الصفحة 1414 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میرے والد صاحب ایک ہوٹل میں کام کرتے ہیں' ہوٹل کا مالک ایک بخیل شخص ہے' لہٰذا میرے والد صاحب اور کچھ دیگر ملازمین ہوٹل کے مالک کو بتائے بغیر کچھ کھانا لے لیتے ہیں' چنانچہ میرے والد صاحب ہوٹل کے مالک کے علم کے بغیر ہفتہ میں تقریبًا تین کلو گوشت گھر لے آتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ ہوٹل کا مالک بخیل ہے اور وہ ہم پر ترس نہیں کھاتا' میں طالبعلم ہوں اور ابھی زیر تعلیم ہوں۔ کیا اس گوشت کو کھا سکتا ہوں یا یہ حرام ہے؟یہ گوشت ہمارے گھر میں چار دن تک رہتا ہے اور ان چار دنوں میں ہم اس کے سوا اور کچھ نہیں کھاتے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آپ کیلئے اس گوشت کو کھانا جائز نہیں ہے جسے آپ کے والد ہوٹل کے مالک کے علم کے بغیر چوری چھپے لاتے ہیں خواہ وہ بخیل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ کارکن کا حق تو صرف وہ تنخواہ وغیرہ ہے جسے بوقت معاہدہ طے کر لیا گیا ہو لہٰذا آپ کیلئے اسے کھانا جائز نہیں جسے آپ کے والد ہوٹل سے چوری کر کے لائیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

«کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہُ، وَمَالُہُ، وَعِرْضُہُ ۔ ( صحیح مسلم)

''مسلمان سارے کا سارا دوسرے مسلمان پر حرما ہے (یعنی) اس کا مال بھی' خون بھی اور عزت و آبرو بھی''۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص498

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت