فهرس الكتاب

الصفحة 1912 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

آج کل حوادث بکثرت ہونے لگے ہیں اور دیت کی ادائیگی بہت مشکل امر ہے۔ ہم کچھ ساتھیوں نے اتفاق کیا اور نقد رقم اکٹھی کی جسے ہم نے راجحی بینک میں امانت کے طور پر رکھ دیا اور اس رقم پر ایک مدت گزر گئی۔ کیا ہم پر اس کا کچھ گناہ ہے؟… یہ خیال رہے کہ جب اس رقم پر سال گزر گیا تو ہم نے اس کی زکوٰۃ ادا کردی تھی۔ کیا ہم اسے اسی بینک میں رہنے دیں۔ ہمیں مستفید فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔ (عمری۔ع۔ا۔جدہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مصرف راجحی کے ہاں رقم پڑی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ جہاں تک ہم جانتے ہیں وہاں سود پر اعانت نہیں کی جاتی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت