فهرس الكتاب

الصفحة 71 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

محرم کے بغیر بیرون ملک سے کسی خادمہ کے آنے کے بارے میں کیا حکم ہے کیا خادمہ کا محرم کے بغیر اپنے ملک سے آنا اور محرم کے بغیر اس گھر میں قیام کرنا جہاں وہ خدمت سرانجام دیتی ہو،ممنوع ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

محرم کے بغیر کسی عورت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں خواہ وہ خادمہ ہو یا کوئی اور کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( ولاتسافر المرأة إلا مع ذی محرم ) ) ( صحیح البخاری)

''محرم کے بغیر کوئی عورت سفر نہ کرے۔''

البتہ گھر میں اس کی موجودگی محرم کی محتاج نہیں ہے لیکن کسی اجنبی مرد کو اس کے ساتھ خلوت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( لا یخلون رجل بامرأة إلا مع ذی محرم ) ) (صحیح البخاری)

''کوئی مرد محرم کے بغیر کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے۔''

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( لایخلون أحدکم بامرأة فإن الشیطان ثالثہما ) ) ( جامع الترمذی)

''جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرتا ہے تو ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔''

اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص94

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت