فهرس الكتاب

الصفحة 512 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا کیمرہ سے تصویر بنانا جائز ہے؟اور کیا ٹیلی ویژن کو دیکھنا خصوصًا خبروں وغیرہ کے لیے جائز ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جاندار چیزوں کی تصویر جائز نہیں ہے خواہ وہ کیمرے سے بنائی جائے یا دیگر آلات سے اورنہ جاندار چیزوں کی تصویروں کو حاصل کرنا اور اپنے پاس رکھنا جائز ہے الا یہ کہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ کی کوئی ناگزیر ضرورت ہو'تو اس ضرورت کے لیے تصویر بنانا اور اسے اپنے پاس رکھنا جائز ہے۔جہاں تک ٹیلی ویژن کے بارے میں سوال ہے تو یہ ایک ایسا آلہ ہے کہ اس کے باوجود کے بارے میں کوئی حکم نہیں ہے۔حکم کا تعلق اس کے استعمال سے ہے اگر اسے حرام چیزوں کےلیے استعمال کیا جائے مثلًا فحش گانوں 'فتنہ انگیز تصویروں 'کذاب وافتراء'الحاد 'حقائق کے مسخ کرنے اور فتنوں کے بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ حرام ہے اور اگر اسے خیر وبھلائی کے کاموں کیلیے استعمال کیا جائے مثلًا قرآن مجید کی تلاوت'حق کے اظہار'امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلیے تو پھر اس کا استعمال جائز ہے اور دونوں مقاصد کےلیے استعمال کیا جائے اور دونوں مساوی ہوں یا اس میں شر کاپہلو غالب ہو تو پھر اس کا استعمال حرام ہوگا۔کمیٹی کی طرف سے تصویر اور ٹیلی ویژن دیکھنے کے بارے میں دو مفصل فتوے جاری ہوچکے ہیں'ہم ان میں سے ہر ایک کی فوٹو کاپی ارسال کررہے ہیں تاکہ آپ ان سے استفادہ کرسکیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص395

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت