فهرس الكتاب

الصفحة 1754 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ابو داؤد کی حدیث بیع مضطر والی کا کیا مطلب ہے ؟اور باقاعدہ محدثین یہ حدیث کیسی ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ابو داؤد کی روایت مذکورہ بالا نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع المضطر صحیح نہیں ۔اس کی سند میں راوی مجہول ہے۔ اور اس کا مطلب بھی اضطراب سے خالی نہیں شراح نے اس میں گڑ بڑ کی ہے۔کہ مضطر کوبیچنا منع ہے یا مشتری کو خریدنا دونوں طرح لکھا ہے دونوں مخدوش ہیں جب روایت ہی صحیح نہیں تو توجیہات کی ضروعت نہیں مگر امام بخاری کا باب جواز پر دال ہے۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 152

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت