فهرس الكتاب

الصفحة 1641 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

تجارت کےلیےایک شخص نے کچھ روپیہ قرض مانگا۔ساہو کار نے سود تو طلب نہیں کیا۔لیکن یہ کہا کہ تجارت میں جو بھی نفع ہوگا اس میں آٹھواں میرا اس شرط پر قرض دیا یہ سود میں شامل ہے کہ نہیں۔اس طرح کا قرض جائز ہے یانہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔؟؟؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت مرقومہ میں شرکت ہے جائز ہے۔اللہ اعلم

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 65

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت