فهرس الكتاب

الصفحة 1494 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جوئے کی ایک نشا نی یہ ہے کہ اس میں اصل زرتلف ہو جا تا ہے جب کہ انعا می با نڈ میں ایسا نہیں ہو تا ہے پھر علمائے کرا م اسے کیوں جوا سمجھتے ہیں حا لا نکہ انعا می با نڈ کسی بھی وقت واپس کر کے رقم وصول کی جا سکتی ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

انعا می با نڈ میں جو ا اور سود کی دونوں صورتیں مو جو د ہیں جوا اس لیے کہ کھا تہ میں جمع شدہ رقم اس انعا م کا ذریعہ بنی ہے جو کسی کا ر نا مہ کا صلہ نہیں بلکہ بلا محنت بخت و اتفاق سے ہا تھ لگ گئی ہے یہی جوا کی تعریف ہے دوسری طرف جس ادارہ میں یہ رقم جمع ہو تی ہے وہ اسے سودی کا رو با ر پر صرف کرتا ہے قرعہ کی مدت کے دورا ن وہ بہت ساری رقم جمع کر لیتا ہے جس کی معمولی سودی نسبت بجائے سب حصہ داروں پر تقسیم کر نے کے چند افرا د کی جھو لی میں انعا م کے طو ر پر ڈال دی جا تی ہے اس میں سود کی شرح بھی متعین ہو تی ہے جب کہ افراد کا تعین علی السبیل البدل ذہنی ہو تا ہے اور مخصوص رقم جمع کرا نے والا چو نکہ سودی کا رو با ر میں معا و نت کا سبب بنا ہے لہذا وہ بھی مجرم ٹھہرا ۔ باقی رہا جو ئے کی علا ما ت میں سے اصل زر کا تلف ہو نا سویہ صرف ایک مفروضہ ہے اس کا وقعا ت و حقا ئق سے کو ئی تعلق نہیں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص546

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت