فهرس الكتاب

الصفحة 1643 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام تمدن اور دنیوی ترقی کا مانع ومزحم نہیں ہے۔اور مال دنیا کی فراہمی کوئی گنا ہ نہیں ہے۔حضر ت عثمان بن عفان اور دیگر صحابہ کرام مالدار اور لاکھوں درہم ان کے پاس تھے۔اور بڑی بڑی تجارتیں بھی کیا کرتے تھے۔مسلمان کے حق میں مسکنت ایک بڑی ذلت ہے جس سے دین و ایمان قائم برقرار نہیں رہتے ۔اس کے خلاف بھی یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسافرانہ طور سے زندگی بسر کرو مال و دنیا جمع نہ کرو۔مسکین بن کر رہو۔متمول لوگوں کی صحبت سے پرہیز اور گریز کرو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا مانگی اور التجا کی تھی ۔کہ بار خدایا مجھ کو دنیا میں مساکین رکھ اور دنیا سے مسکین اُٹھا۔اور عقبیٰ میں بھی مجھ کو مسکین کے زمرہ میں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دو قولوں کی تطبیق کیونکر ہو سکتی ہے۔یہ تو الضدان لا یجتمعان کا معاملہ ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ان دونوں باتوں میں تطبیق ایک حدیث سےہوتی ہے۔جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا یوں مروی ہے۔

اللہم انی اعوذبک من غنی یطغینی ومن فقر یمیتنی

اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ایسے غناء سے جو مجھ کو سرکش کردے۔اورایسے فقر سے جو مجھ کو مارے تکلیف کے سب کچھ بھلا دے۔ورنہ محض مال جمع کرنا منع نہیں۔بلکہ منع یہ ہے کہ اس میں زکوٰة نہ دے۔اوراس کی مستی میں موت کو بھول جائے۔چنانچہ فرمایا!

مسکین کے دو معنٰی ہیں۔ایک مال سے مسکین۔دوم طبعیت سے مسکین جس کو متواضع کہتے ہیں۔

)فتویٰ ثنائیہ جلد 2 ص224(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 65

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت