فهرس الكتاب

الصفحة 1507 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیافرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ حرام جانوروں کے اعضائے بدن انسانی جسم کو لگائے جا سکتے ہیں یا نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حرام جا نو روں کے اعضاء کی انسانی بدن میں پیوندکاری ناجائز ہے چنانچہ حدیث میں ہے حضرت ابوداؤد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔

«قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم;«ان اللہ انزل الداء والدواء وجعل لکل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام» ضعفہ الالبانی ابو دائود کتاب الطب باب فی الادویة المکروہة (3874)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تحقیق اللہ نے بیماری اور علاج نازل کیا ہے ہر بیماری کاعلاج ہے پس دواکرواور حرام کے ساتھ دوانہ کرو۔"

اس روایت سے معلوم ہوا کسی بھی حرام شئی کو بطور علاج معالجہ استعمال کرنا حرام ہے مزید آنکہ قرآن مجید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ میں مصرح ہے ۔

{وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبـٰتِ وَیُحَرِّ‌مُ عَلَیہِمُ الخَبـٰئِثَ... 157} ... سورة الاعراف

"اورپاک چیزوں کوان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کوان پر حرام ٹھہراتے ۔"لہذاحرام چیزوں کے اجزائے بد ن کوانسانی طاہر میں کسی صورت استعمال کی اجازت نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص693

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت