فهرس الكتاب

الصفحة 724 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

عبداللہ بن عمر کا قول کہ داڑھی ایک مٹھ سے زائد کٹوانی جائز ہے کیا یہ صحیح ہے یا نہیں اگر صحیح ہے تو پھر کٹوانی صحیح اور داڑھی کے متعلق روایات بھی انہیں سے آتی ہیں؟ محمد یعقوب طاہر

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

میری دانست میں تو یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل ہے قول نہیں حجت راوی کی حدیث ہوتی ہے نہ کہ اس کا قول یا عمل ۔ دیکھئے عبداللہ بن مسعود سوال آیت فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا کے نقل کرنے والے ہیں اور فتویٰ دیتے ہیں جنبی پانی نہ ملنے کی صورت میں نماز نہ پڑھے حتی کہ اسے پانی مل جائے غسل کرے اور نماز پڑھے اب ہم عمل آیت پر کرتے ہیں عبداللہ بن مسعود سوال کے فتویٰ پر نہیں کرتے یہی معاملہ حدیث کا بھی ہے عمل حدیث پر ہو گا نہ کہ حدیث کے راوی کے قول یا عمل پر۔ ۴/۸/۱۴۱۴ہـ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 519

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت