فهرس الكتاب

الصفحة 336 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مرد اگر ان عورتوں کے چہروں اور اجسام کو دیکھیں جو ٹیلی ویژن یاسینما یا ویڈیو کے پردوں پر دکھائی جاتی ہیں یا گانے والی عورتیں پیش کی جاتی ہیں یا اوراق پر عورتوں کی تصاویر کو دیکھیں تو کیا یہ ان کے لیے جائز ہے؟ (ع۔ح۔ع۔ح)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ایسی تصویروں کی طرف دیکھنا حرام ہے کیونکہ اس بات پر فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ سورہ نور کی آیت کریمہ اس طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

{قُلْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکَی لَہُمْ اِِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَo} (النور: ۳۰)

''اے پیغمبر! مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ بات ان کے لیے پاکیزہ تر ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان کاموں سے خبردار ہے جو وہ کرتے ہیں ۔''

یہ آیت زندہ عورتوں اور تصویری عورتوں سب کو عام ہے۔ خواہ اوراق میں ہوں یا ٹیلی ویژن کے پردہ پر ہوں یا کسی اور چیز میں ہو۔

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 192

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت