فهرس الكتاب

الصفحة 1428 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں نے بہادری کے بعض کارناموں میں شرکت کی جس کی وجہ سے مجھے سونے کا تمغہ 'گھڑی اور قلم انعام کے طور پر ملے۔سوال یہ ہے کہ سونے کی بنی ہوئی ان اشیاء کےاستعمال کے بارے میں کیا حکم ہے ؟میں ان اشیاء کو کس طرح استعمال کرسکتا ہوںَ کیا ان میں زکوۃ واجب ہے'زکوۃ کی مقدار کیا ہوگی؟ یادرہے کہ مجھے یہ علم نہیں ہےکہ ان اشیاء میں سونے کی مقدار کتنی ہےَ جزاکم اللہ خیرًا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مردوں کے لیے سونے کا تمغہ 'گھڑی یا قلم استعمال کرنا جائز نہیں ہے البتہ عورتوں کے لیے سونے کے زیوارت استعمال کرنا جائز ہے'لہذا آپ یہ اشیاء اپنی کسی قریبی رشتہ دار عورت کو دےدیں یا ان اشیاء کو استعمال کرنے سے پہلے ان سے سونا اتاردیں' دیگر زیورات کی طرح سونے کی ان اشیاء کی قیمت میں بھی زکوۃ ڈھائی فی صد ہوگی

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص278

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت