فهرس الكتاب

الصفحة 1886 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

عدم علم کی وجہ سے کہیں سے سود کے پیسے آجائیں اور بعد میں یہ پتہ چلے کے یہ پیسے ناجائز ہیں۔ یہ سود ہے تو آدمی خود استعمال کرنے کی بجائے چاہتا ہے کہ کسی اور جگہ استعمال ہوجائیں۔تو آ پ فرمائیں کہ ان سودی پیسوں کا مصرف کیا ہوگا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

سودی پیسہ جو اچانک ہاتھ لگ جاتا ہے۔اس کا مصرف یہ ہے کہ اگر کسی نے بیاج کا پیسہ دینا ہے تو اسے بتا کر اس کے سپرد کردیا جائے تاکہ سود اُتار سکے یا کسی پر حرام کاتاوان ہے تو اسے دے کر اس کی خلاصی کرائی جائے غرض یہ کہ حرام کا پیسہ حرام رستے میں ہی لگنا چاہیے۔صورت چاہے جو نسی ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص555

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت