فهرس الكتاب

الصفحة 635 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

تاش اور شطرنج کھیلنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اہل علم اور ہمارے مشائخ نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں کھیل حرام ہیں کیونکہ یہ انسان کو بے حد غافل کرکے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکر سے روک دیتے ہیں اور بسا اوقات ان کی وجہ سے کھیلنے والوں میں عداوت اوربغض بھی پیدا ہوجاتاہے اور اکثر و بیشتر ان کھیلوں میں انعامی شرط بھی لگائی جاتی ہے اور یہ معلوم ہےکہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے پر مقابلہ کرنے کی کسی بھی صورت میں انعامی شرط جائز نہیں ہے سوائے اس مسابقت کے جس پر نص شریعت ہے اور وہ صرف تین چیزیں ہیں ۔1۔ تیر اندازی ۔2۔ اونٹ اور3۔ گھوڑے دوڑانا ۔ شطرنج اور تاش کھیلنےوالوں کے بہت سے اوقات اللہ یک اطاعت کے بغیر صرف ہوتے ہیں اور ایسے کاموں میں خرچ ہوتے ہیں ، جن کا دنیوی امورمیں بھی کوئی فائدہ نہیں ۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ تاش اور شطرنج کھیلنے سےذہن کھلتا ہے اور ذہانت نشونما پاتی ہے لیکن حقیقت اور امر واقع ان لوگوں کے اس دعویٰ کے خلاف ہے کیونکہ ان کھیلوں سے تو انسان کند ذہن ہوتا اور وہ صرف انہی بے کار کھیلوں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتاہے ، کسی اور کام مین ان لوگوں میں ان لوگوں کا ذہن قطعًاکسی کام نہیں آتا ،لہذا ایک عقل مند انسان کےلیے یہ واجب ہےکہ وہ ان کھیلوں سےکنارہ کش رہے جو انسان کے فکر کو بلید اور اس کی سوچ کو محض انہیں تک محدود کردیتے ہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص459

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت