فهرس الكتاب

الصفحة 1396 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اس صدقہ کے بارے میں کیا حکم ہے جسے میں ذبح کروں اور اپنے دل میں یہ کہوں یا اپنے پاس موجود لوگوں کے سامنے یہ کہوں کہ یہ میرے بیٹے کی کامیابی کی خوشی میں' یا گاڑی کے حادثہ میں محفوظ رہنے کی خوشی میں یا کسی بھی اور خوشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کیلئے صدقہ ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا میں خود بھی اس صدقہ سے کھا سکتا ہوں یا نہیں؟ یاد رہے میں نے اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم نہیں کھائی ہوتی اور نہ یہ نذر مانی ہوتی ہے کہ میں یہ کام کروں گا لیکن جب کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے توکہتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کیلئے صدقہ ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کیا یہ طریقہ درست ہے' جسے ہم نے اختیار کر رکھا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اعمال کے بارے میں اصل یہ ہے کہ یہ نیت پر مبنی ہوتے ہیں۔ عمل پر ثواب کیلئے نیت شرط ہے۔ مسلمان کو چاہئے کہ ہر خرچ کے وقت تقرب الٰہی کے حصول کی نیت کرے اور اگر کسی پروگرام کی مناسبت سے مثلًا مہمان کی آمد یا بیٹے کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے جانور ذبح کیا جائی اور مقصود تقرب الٰہی کا حصول ہو تو اس سے خود کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص461

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت