فهرس الكتاب

الصفحة 1240 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا ان یتیموں کے مال میں تصرف کیا جاسکتا ہے جو خود مالی معاملات کرنے میں کوتاہ ہوں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یتیم کا ولی اس کے مال میں ایسا تصرف کرسکتا ہے جو یتیم کے لیے نفع اور فائدہ کا باعث ہو۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَلا تَقرَ‌بوا مالَ الیَتیمِ إِلّا بِالَّتی ہِیَ أَحسَنُ حَتّیٰ یَبلُغَ أَشُدَّہُ ۚ...34} ... سورةالاسراء

"اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ وہ بہت ہی پسندیدہ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔"

یتیم کا والی اس کے مال میں ایسا تصرف کرسکتا ہے جس سے اس کا مال بڑھے اور جس میں اس کی مصلحت ہو۔باقی رہا ایسا تصرف جس سے مال کم ہو یا اسے نقصان پہمچے تو یہ جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص377

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت