فهرس الكتاب

الصفحة 1430 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کچھ پیشے غیر شریفانہ ہیں اور وہ ان پیشوں کے کرنے والوں مثلًا نانبائیوں 'حجاموں'موچیوں اور صفائی کا کام کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھتے ۔کیا کوئی ایسی شرعی دلیل ہے جس سے معلوم ہوکہ یہ خیال صحیح ہے؟کیا عربی عادات وطبائع ان پیشوں سے نفرت کرتی ہیں؟راہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرًا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ان پیشوں اور ان جیسے دیگر جائز پیشوں میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان پیشوں سے وابستہ شخص اپنے رب سے ڈرے'ہمدردی وخیر خواہی سے کام کرے اور اپنے ساتھ معاملہ کرنے والوں کو دھوکہ نہ دے جیساکہ ادلہ شرعیہ کے عموم کا تقاضہ ہے کہ مثلًا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا:

(عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرور) (مسند احمد:4/141 'والمستدرک علی الصحیحین:2/2- ومسند البراز:2/83)

"آدمی کا اپنے ہاتھ سےکام کرنا اور ہر جائز بیع۔"

اس حدیث کو بزارنے روایت کیا اور حاکم نے صحیح قراردیا ہے'اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے:

(مااکل احد طعامًا قط خیرًا منان یاکل من عمل یدہ وان النبی اللہ داود علیہ السلام کا ن یاکل من عمل یدہ ) ) (صحیح البخاری 'البیوع 'باب کسب الرجل عملہ بیدہ ' ح: 2-82)

"کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا اور کوئی نہیں کھایا'اللہ تعالیٰ کے نبی داود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔" (اس حدیث کو امام بخاری ؒ نے اپنی"صحیح"میں روایت فرمایا ہے)

پھر لوگوں کوان اور ان جیسے دیگر پیشوں کی ضرورت بھی ہے، ان کو ترک کردینے سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا کیونکہ ان کاموں کے لیے پھر انہیں دشمنوں کا دست نگر ہونا پڑے گا۔جو شخص صفائی کے کام سے وابستہ ہو'اسے چاہیے کہ اپنے جسم اور کپڑوں کو نجاست سے محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کرے اور اگر کوئی نجاست وغیرہ لگ جائے تو جسم اور کپڑوں کو پاک کرنے کا خوب اہتمام کرے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص324

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت