فهرس الكتاب

الصفحة 96 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کے بارے میں کیا حکم ہے'خصوصًا اس انگوٹھی کے بارے میں جسے شادی کی انگوٹھی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے 'نہ شادی سے پہلے اور نہ شادی کے بعد ' کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے اور جب آپ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تواسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا:

(( یعمدکم احدکم الیٰ جمرة من نار فیجعلہا فی یدہ ) ) (صحیح مسلم 'اللباس' باب تحریم خاتم الذہب علی الرجالالخ' ح: 2-9-)

"تم میں سے ایک شخص آگ کے انگارے کا قصد کرتا ہےاور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔ (امام مسلم نے"صحیح: میں بیان فرمایا ہے۔)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی استعمال کرنا حرام ہے اور یہ مطلقًا جائز نہیں ہے خواہ شادی ہی کے لیے کیوں نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص271

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت