فهرس الكتاب

الصفحة 1425 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بیان کیا جاتا ہے مرد کے لیے دانت کو سونے یا چاندی سے باندھنا جائز ہے،سوال یہ ہے کہ اگر سونے یا چاندی کا دانت لگوالیا جائے یا اس پر سونے یا چاندی کاخول چڑھا لیاجائے تو کتاب وسنت کی دلیل کی روشنی میں بتائیں کہ یہ جائز ہے یا ناجائز؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

قولًا اورعملًا ثابت یہ ہے کہ مردوں کے لیے سونا یا چاندی کے برتنوں کو استعمال کرنا یا ان چیزوں کو استعمال کرنا جنہیں سونے چاندی سے بنایا گیا ہو یا جن پر ان کی پالش کی گئی ہو حرام ہے۔ان میں صرف وہ چیز جائز ہے جس کے جواز کی دلیل ہو'مثلًا چاندی کے تار کے ساتھ ٹوٹے ہوئے برتن کو باندھنا ۔ سونے اور چاندی کے دانت یا ناک لگوانا یا ن پر خول چڑھانا ممانعت سے مستثنی ٰ نہیں ہے لہذا اصل یہ ہے کہ یہ حرام ہے کہ الاّ یہ کہ اس کی ضرورت ہوتو پھر ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا (یعنی جب سونے اور چاندی کے استعمال کے بغیر اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہو تو پھر نظریہ ضرورت تحت جائز ہے)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص276

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت