فهرس الكتاب

الصفحة 1235 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا کسی حکومتی ادارے میں کام کرنے والے مسلمان ملازم کے لیے سرکاری گاڑی کا ذاتی ضرورت کے لیے استعمال جائز ہے خصوصًا جب کہ اس کے پاس اپنی ذاتی گاڑی بھی موجود ہو؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حکومت کے ملازم کی مثال اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی سی ہے'جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہو وہ اس کے بارے میں امین ہے'نیز سرکاری میں کام کے لیے اسے جو آلات اور جو اشیا دی جائیں'ان کے استعمال میں بھی اسےا مانت ودیانت کاثبوت دینا چاہیے کہ انہیں صرف سرکاری کاموں ہی کے لیے استعمال کرے لہذا اسے چاہیے کہ ذاتی کام کے لیے نہ سرکاری گاڑی استعمال کرے اور نہ ٹیلی فون 'نوٹ بکس'کاغذات 'قلم اور دیگر اشیا استعمال کرے' تقویٰ اور امانت ودیانت کا تقاضا یہی ہے کہ سرکاری اشیاء کو ذاتی استعمال میں نہ لایا جائے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَالَّذینَ ہُم لِأَمـٰنـٰتِہِم وَعَہدِہِم ر‌ٰ‌عونَ 32} ... سورةالمعارج

"اور جو امانتوں اور اقراروں کوملحوظ رکھتے ہیں۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص330

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت