السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کچھ دن پہلے ایک شخص نے ہوٹل میں چائے پینے سے انکار کردیا وجہ یہ بتائی کہ جس برتن میں چائے تھی اس میں نشان تھے کہ وہ ٹوٹا ہوا ہے یعنی مکمل نہیں ٹوٹا تھا کچھ نشان تھے ۔ توکیا اس آدمی نے صحیح طریقہ اختیارکیا۔؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
میرے خیال میں یہ ان توہمات میں سے ہے جو ہمارے معاشرے میں بلادلیل رائج ہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ٹوٹے برتن کو استعمال کر لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک پیالہ ٹوٹ جانے پر اس کو چاندی کی تار سے جوڑ لیا تھا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
2878 - «حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِی حَمْزَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ قَدَحَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انْکَسَرَ فَاتَّخَذَ مَکَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ»
قَالَ عَاصِمٌ رَأَیْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِیہِ۔ (صحیح بخاری، کتاب فرض الخمس، باب ماذکر من درع النبی صلی اللہ علیہ وسلم )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
محدث فتوی
فتوی کمیٹی