فهرس الكتاب

الصفحة 1713 من 2029

ایک شخص کا محض روپیہ ہے اوردوسرا صرف کاروباری

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

دو اشخاص اس طرح شراکت میں کام کرتے ہیں۔کہ ایک شخص کا محض روپیہ ہے۔اوردوسرا صرف کاروباری دیکھ بھال خریدو فروخت کرتا ہے۔ نفع نقصان کا حصہ اسی طرح مقرر ہے۔فریق اول کا دو تہائی یا نصف مقررہے۔علی ہذالقیاس دوسرے کا ایک تہائی یا نصف اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کاروبار ہر دو فریق کو جائز ہے۔یا ناجائز اگر ناجائز ہے تو کس فریق کو آیا فریق اول کو یا دوم کو؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ بیع جائز نہیں لا بیع ما لیس عندک (الحدیث) ترجمہ۔جو چیز تمہارے پاس نہیں تم اس کی بیع نہ کرو اس صورت کو بھی شامل ہے۔ (اہل حدیث امرتسر 24 محرم 1355ھ) (فتاوی ثنائیہ۔جلد2ص ۔392)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 111

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت