فهرس الكتاب

الصفحة 320 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

متعہ کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کیا یہ جائز ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

پہلے وقتا فوقتا آپﷺنے اس کو جائز قرا ر دیا مگر آخر میں آپﷺنے اس کو قیامت تک ناجائز قرار دے دیا۔ صحیح مسلم میں ہے:

«عنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ قَالَ حَدَّثَنِیْ الرَّبِیْعُ ابْنُ سَبْرَةَ الْجُہَنِیُّ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ r نَہٰی عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَالَ أَلاَ إِنَّہَا حَرَامٌ مِنْ یَوْمِکُمْ ہٰذَا اِلٰی یوْمِ الْقِیَامَةِ» جلد اول ص452 کتاب النکاح- باب نکاح المتعة (الحدیث)

''رسول اللہﷺ نے منع فرمایا متعہ سے اور فرمایا کہ آگاہ رہو آج کے دن سے حرام ہے قیامت کے دن تک''

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 328

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت