فهرس الكتاب

الصفحة 1878 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

محترم سوال یہ ہے کہ جہاں میں کام کرتا ہوں وہاں کا مالک سودی کاروبار کرتا ہے۔کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اس کے گھر میں نوکری کروں۔؟ اور مالک مجھے نوکری چھوڑنے بھی نہیں دیتا ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اگر تو آپ کی نوکری اس کے سودی کاروبار میں معاون ثابت ہورہی ہے اور آپ اس کے اسی کاروبار سے ہی منسلک ہیں تو پھر آپ کے لئے یہ نوکری کرنا قطعا ًحرام ہے ۔اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ آپ ان کے گھر میں دیگر کاموں پر مامور ہیں تو پھر اگرچہ نوکری کرنا جائز ہے ،لیکن احتیاط کا تقاضا ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس سے بھی بچا لیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت