فهرس الكتاب

الصفحة 1753 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

حکومت کاشرعا نرخ مقرر ومین کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟اور ابو داؤد کی حدیث تسعیر کاکیا مفہوم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ جب لوگوں نے نرخ مقرر کرنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تو آپ نے ان کو جواب دیا۔

حدیث ان اللہ ہو المسعر القابض الباسط الرازق وانیلا وجوان القی ربی ولیس احد منکم یطلبنی بمظلمة جدم ولا مال رواہ الترمذی وابو داود وابن ماجہ و دارمی )مشکوات) (مشکواۃ ) یہ حدیث نرخ مقرر کرنے کی نفی کرتی ہے مگر جب حکومت غٖیر مسلمہ نے نرخ مقرر کردیا تو مجبورایہی عرف عام ہوگیا اس لئے کہ جو پہلا عرف تھا۔وہ تو رہا نہیں اگر وہ باقی رہے تو پھر اس کے مطابق عمل صحیح ہے۔صحیح بخاری میں بیع شرائ کا حکم تعارف و عرف عام پربتایا ہے اور اب وہ پہلا عرف نہیں رہا تو حکومت کا کردہ ہی رہے گا اورتسعیر کا معنی نرخ مقرر کرنا ہے۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 151

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت