فهرس الكتاب

الصفحة 50 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

داڑھی منڈانے رخسا روں کے با لوں کے منڈانے اور داڑھی اور مونچھوں کے چھوڑ دینے کے با رے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

داڑھی منڈانا جا ئز نہیں کیو نکہ صحیح حدیث میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشا د گرا می مو جو د ہے کہ:

خالفوا المشرکین ووفروا اللحی واحفوا الشوارب (صحیح بخاری)

"مو نچھیں کتراؤ،داڑھیا ں بڑھا ؤ اور مشرکو ں کی مخا لفت کر و۔"نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د ہے:

جزوا الشوارب وارخوا اللحی وخالفوا المجوس (صحیح مسلم)

"مو نچھیں کتراؤ ۔داڑھیا ں بڑھا ؤ اور مجو سیوں کی مخا لفت کر و ۔"داڑھی ان با لو ں کو کہتے ہیں جو رخسا روں اور ٹھوڑی پر ہو ں جیسا کہ صاحب لسا ن و قا مو س نے واضح کیا لہذا رخسا روں اور ٹھوڑی کے بالوں کو منڈا نا کٹوا نا نہیں چا ہیے بلکہ وا جب ہے کہ انہیں چھو ڑ دیا جائے اللہ تعا لی سب مسلما نو ں کو اصلا ح احو ا ل کی تو فیق عطا فر ما ئے ۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت