فهرس الكتاب

الصفحة 340 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایسے رسائل پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے، جن میں نیم عریاں تصویریں شائع ہوتی ہوں نیز ان تصویروں کے دیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہم ہر مسلمان کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ فتنوں اور ان کے اسباب سے دور رہے تاکہ وہ اپنے اس دین کی حفاظت کر سکے جو اسے تمام خرابیوں سے بچانے والا ہے، بلا شبہ خوبصورت عورتوں کی نیم عریاں تصویریں دیکھنا بدکاری اور بے حیائی کا ایک بہت بڑا سبب ہے اور ان یا ان جیسی دیگر عورتوں سے میل ملاپ پر اکسانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور پھر اس مقصد کے حصول کی خاطر انسان اپنا سب کچھ دائو پر لگانے میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتا لہٰذا ہر مسلمان کو جو اپنا خود ہمدرد و خیر خواہ ہو یہی بات زیب دیتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھے جو اس کے کردار کو داغدار کرنے والی ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص86

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت