فهرس الكتاب

الصفحة 960 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ہم بعض محفلوں میں گیتوں کے ساتھ طبلہ اور سارنگی کو بھی استعمال کرتے ہیں اور یہ سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے،ایک مرتبہ ایک شخص نے ہمارے اس فعل کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام بہت برا ہے یعنی گیتوں کا طبلہ اور سارنگی کے ساتھ گانا،یاد رہے ہم فحش گیت نہیں گاتے فتوی عطا فرمائیں ،جزاکم اللہ خیرا

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہمیں کوئی ایک بھی دلیل ایسی معلوم نہیں جس سے طبلہ اور سارنگی کا استعمال جائز قرار پاتا ہو،بلکہ صحیح حدیث سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی دیگر آلات موسیقی کی طرح حرام ہیں ،مثلًا نبی سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر،والحریر،الخمر،والمعازف۔؛]صحیح بخاری ،الاشربة، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر و یسمیہ بغیر اسمہ ح:۵۵۹۰]

میری امت میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو زنا ،ریشم ،شراب ،اور آلات موسیقی کو حلال قرار دیں گے۔

حدیث میں آنے والا معازف کا لفظ تمام گانوں اور تمام آلات موسیقی کے لیے استعمال ہوتا ہے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص412

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت