فهرس الكتاب

الصفحة 1151 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید کہتاہے کہ شئے واحد کو اس طرح بیچنا کہ ایک من گندم کی قیمت اصلی بازار میں پانچ روپے ہے اب اگر کوئی نقد قیمت دے کر خریدتا ہے تو اسی قیمت اصلی پر بیچنا اور اگر کوئی اوہار پر خریدتاہے تو وہ ایک من گندم کو سات روپے پر بیچنا بموافق حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ

قال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ سلم عن بیعتین فی بیعة والیضالابی داؤد من باع بیعتین فی بیعہ فلہ وار اوکسہا اوالربوا.

سود حرام ہے اور بکر کہتا ہے کہ یہ بیع و فروخت حلال و جائز ہے ان دونوں صاحبوں میں سے کون حق و صواب پر ہے بیان مفصل بدلیل مطلوب ہے،

(سائل ابو عبد الحکیم نسیم الدین رنگپوری بنگال )

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

شئے واحد کو نقد کم قیمت پر اور ادھار ذیادہ قمیت پر بیچنا جائز ہے بشرطیہ بات قطعی ہو جائے گو مگونہ رہے یعنی مشتری یہ کہے کہ قیمت اوہار ہے فلاں روزدوں گا بائع اس پر چیز کی قیمت قطعی کہہ دے ایسا نہ کریں کہ نقد لے گا تو ایک روپیہ ادھار لے گاتو سوروپیہ اور مشتری بغیر طے کئے کسی بات کے اٹھا کرلے جائے بیعة فی بیعتین کے معنی نہیں صورت صاف ہے تو جائز ہے، (نیل الاوطار، ( ۳۰اپریل ۳۲ء؁)

نوٹ:۔ پہلے بھی اس بارے میں مفصل تشریح فتاوی نذیر یہ سے نقل کی جا چکی ہے، (مؤلف)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 429

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت