فهرس الكتاب

الصفحة 1749 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

حامد اپنی بھینس محمود کے یہاں گروی رکھ کر کچھ روپیہ حاصل کرتا ہے اور محمود اس کی بھینس گو لینے کے بعد کھلاتا پلاتاہے اور بھینس کا کل دودھ و گوبر اپنے مصرف میں لاتا ہے جب حامد کے پاس روپیہ ہوجاتا ہے۔ تو وہ جملہ مطالبہ محمود کو ادا کر کے اپنی بھینس واپس لے لیتا ہے۔تو ایسی شکل میں بھینس کا دودھ اور گوبر محمود کےلئے سعد میں شمار ہوگا یا نہیں اوراگر بھینس حامد کے چھڑانے سے پہلے محمود کے یہاں کسی بیماری یاسانپ وغیرہ کاٹ لینے سے مرجائے محمود حامد کا مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جو حکم زمین کا ہے وہی حکم جانوروں کا بھی ہے خرچہ سے زیادہ نفع لینا سود ہے بعض حدیثوں میں ہے کل قرض جرمنفعۃ فہوربا یہ رہن امانت کے طور پر رکھاجاتا ہے ہلاک ہونے کی صورت میں مالک کا ہلاک ہوگا ۔واللہ اعلم بالصواب (مولنا عبد السلام بستوی) (اہل حدیث دہلی جلد2 شمارہ 17(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 147

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت