السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
حامد اپنی بھینس محمود کے یہاں گروی رکھ کر کچھ روپیہ حاصل کرتا ہے اور محمود اس کی بھینس گو لینے کے بعد کھلاتا پلاتاہے اور بھینس کا کل دودھ و گوبر اپنے مصرف میں لاتا ہے جب حامد کے پاس روپیہ ہوجاتا ہے۔ تو وہ جملہ مطالبہ محمود کو ادا کر کے اپنی بھینس واپس لے لیتا ہے۔تو ایسی شکل میں بھینس کا دودھ اور گوبر محمود کےلئے سعد میں شمار ہوگا یا نہیں اوراگر بھینس حامد کے چھڑانے سے پہلے محمود کے یہاں کسی بیماری یاسانپ وغیرہ کاٹ لینے سے مرجائے محمود حامد کا مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے۔؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
جو حکم زمین کا ہے وہی حکم جانوروں کا بھی ہے خرچہ سے زیادہ نفع لینا سود ہے بعض حدیثوں میں ہے کل قرض جرمنفعۃ فہوربا یہ رہن امانت کے طور پر رکھاجاتا ہے ہلاک ہونے کی صورت میں مالک کا ہلاک ہوگا ۔واللہ اعلم بالصواب (مولنا عبد السلام بستوی) (اہل حدیث دہلی جلد2 شمارہ 17(
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 147
محدث فتویٰ