فهرس الكتاب

الصفحة 1759 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

پریزیڈنٹ فنڈ کا مسئلہ

لازمی نہیں بلکہ خواہش مند ملازمین کی تنخواہ میں سے سوا چھ فیصد کٹوتی کی جات ہے پھر اتنی ہی رقم کمپنی یا محکمہ اپنی طرف سے پنشن وغیرہ کے بدل میں جمع کرتا رہتاہے چونکہ محکمہ ملازم کی اس مجموعی رقم کو اپنے تصرف میں رکھتا ہے مگر ملازم کو ملازمت کے اختتام پر اور دوران ملازمت میں بھی ہر سال اس کی رقوم کا گوشوارہ پیش کیا جاتا ہے مثلا زید کو ایک سال پورا ہونے پر مندرجہ زیل گوشوارہ پیش کیا گیا۔زید کی تنخواہ میں سے پہلے سال 12 ماہ کی پریزیٖنٹ فنڈ کٹو تی کی رقم 250 روپے محکمہ انے اپنی طرف سے پہلے سال 12 ماہ میں جو رقم زید کے فنڈ میں شامل کی 250 روپہے ایک سال کاسود جو کل رقم پانچ وو روپہے پر زید کو ملے گا 30 روپے

اس وقت کل رقم جو زید کو واجب الادا ہوچکی ہے 530 روپیہ ہے۔

ایسا ہی گوشوارہ ہر سال ملتا ہے۔مگر رقوم کی ادایئگی ملازمت کے اختتام پر ہی ہوتی ہے۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

دوسرے سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت ناجائز ہے۔باقی دوسری اور تیسری صورت میں جمع کرنے ولاے نے سود سے انکار کیا ہے۔لہذایہ دونوں صورتیں جائز ہیں ان دونوں صورتوں میں سے بھی دوسری صورت تب جائز ہے کہ وہ آدمی روپے کی حفاظت کے معاملے میں مجبور ہو جائے او رچور ڈاکو کا خطرہ ہو ورنہ نہیں

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 174

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت