فهرس الكتاب

الصفحة 1523 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کینڈا سے عابدنعیم نے درج ذیل سوالات ارسال کئے ہیں

(۱) کیا پانی کی تمام جاندار چیزیں اسلام میں حلال قرار دی گئی ہیں؟

ایک صاحب نے کہا کہ سمندر میں بسنے والےتمام جاندار حلال ہیں کیونکہ یہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے ثابت ہے تو کیا خونخوار قسم کے بحری جاندار اور مختلف انواع کی مچھلیاں بھی بلا کراہت کھائی جاسکتی ہے جیسے

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

(۱) پانی کی ساری جاندار چیزیں حلال نہیں ہیں۔ مثلًا پانی کا خنزیر یا کتا حلال نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ مچھلی کی وہ تمام اقسام جو مچھلی کی تعریف میں آتی ہیں وہ حلال ہیں۔ باقی جو جانور خشکی میں حرام ہیں وہ سمندر میں بھی حرام ہوں گے۔ مثلًا خنزیر کو قرآن کے حرام ٹھہرایا ہے تو اس میں بری اور بحری ہر قسم کا خنزیر شامل ہوگا۔ اسی طرح دوسرے حرام جانوروں کا معاملہ ہواگا۔

جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے جس میں سمندر کےتمام جانوروں کو حلال کہا گیا ہےوہ صحیح نہیں ہے س کی سند ضعیف ہے۔ باقی مچھلی کہ ہر قسم حلال ہے اس پر ائمہ دین کا اتفاق ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص552

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت