فهرس الكتاب

الصفحة 597 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

11رجب 1412ھ17جنوری 1992ءشمار ہ 3مؤید با لدلا ئل مسلک کے مطا بق گھوڑا حلا ل ہے اس مسلک کا مجھے علم نہیں اچھی طرح تشر یح کر یں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

فر ما ن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھوڑے کی حلت ثا بت ہے حدیث جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے:

«واذن فی لحوم الخیل» صحیح مسلم (5022) ولفظ ''اذن'' رواہ مسلم. (متفق علیہ)

یعنی"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا گو شت کھا نے کی اجا زت دی ہے ۔"البتہ بخاری میں لفظ اذن کی بجائے"رخص"وارد ہے ملا حظہ ہو: بخا ری 4/16مسلم 6/66)

ارشاد نبوی مزید تشر یح کا محتا ج نہیں با ت نصف النھا ر کی طرح بالکل واضح ہے ایک مو من کے لیے بلا تر دو فر ما ن نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایما ن لا نا واجب ہے ۔ قرآن میں ہے:

{وَإِن تُطیعوہُ تَہتَدوا...54} ... سورة النور

"اور اگر تم ان کے فر ما ن پر چلو گے سیدھا رستہ پا لو گے ۔''"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص547

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت