فهرس الكتاب

الصفحة 208 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

قبروں پرمقبرےوغیرہ تعمیرکرنا کس طرح درست ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کسی کی بھی قبرکے اوپرخواہ وہ کسی ملک کا بانی ہویا ولی ہویابزرگ ہویا عام آدمی ہواس پر کچھ تعمیرکرناسخت منع اورحرام ہے،کیونکہ احادیث صحیحہ میں اس کی ممانعت واردہے بلکہ اس پر تعمیرشدہ چیز کو مٹادینے کا حکم ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں شرع کی مخالف ہیں باقی باہرکے لوگ پہلے آکرملک کے بانی کی قبرکی زیارت کریں اس پر چادرچڑھائیں۔یہ سارے کام بدعت سیئہ اورشرک کے ہیں اورناحق ہیں جن کو قطعانہیں کرناچاہئے ۔ایسے کاموں کامرتکب اپنے ایمان کی تجدید کر ے کیونکہ یہ شرعی نہیں ہیں بلکہ سخت ناجائزاورحرام ہیں۔اسی طرح ملک میں جو رواج چل رہا ہے وہ سراسرناجائز وحرام اوربدعت ہے جوقطعا نہیں کرنا چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 388

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت