فهرس الكتاب

الصفحة 1130 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اپنے اخبار اہلحدیث مورخہ ۲۰مئی ۱۹۳۳ء؁میں سال نمبر ۱۴۳ کا جواب دیا ہے کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تاڑی اتارنے کے لئے درخت کرایہ چڑھانہ جائز ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ اصلی تاڑی ہو جاتی ہے جس کی خرید فروخت حرام ہے اور آپ براہ مہربانی اس جواب نمبر۱۴۶کو بحوالہ قرآن و حدیث سمجھا دیں ،

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جہاں یہ مسئلہ لکھا ہے وہاں اس کی ساری تفصیل لکھی ہے مطلب اس کا یہ ہے کہ تاڑی مین نشہ پیدائشی نہیں بلکہ بعد میں گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتاہے جب تک اس میں نشہ نہیں اس کا استعمال کرنا حرام نہیں ،

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 405

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت