فهرس الكتاب

الصفحة 1747 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے بکر سے برائے کاشت کچھ اراضی ٹھیکہ پرلینی کی رقم میں سے مبلغ دو ہزار روپیہ نقد ادا کردیا اور باقی ٹھیکہ کی رقم مبلغ آٹھ ہزار روپیہ چندا ایام تک ادا کر کے زمین کا قبضہ لینے کا عودہ کیا اور ساتھ ہی فریقین کے درمیان یہ طے پایا کہ اگر زید وعدہ کے مطابق مبلغ آٹھ ہزار روپیہ ادا کرکے بروقت زمین پر قابض نہ ہوا تو ادا کردہ مبلغ دو ہزار روپیہ واپس لینے کا حقدار نہیں ہوگا اور اگر بکر نےزمین کا قبضہ نہ دیا تگو وہ مبلغ دس ہزار روپہیہ واپس لینے کا حقدار نہیں ہوگا اور اگر بکر نے زمین کا قبضہ نہ دیا تو وہ مبلغ دس ہزار روپیہ زید کو ادا کرے گا زید نے نے بقایا رقم مبلغ آٹھ ہزار روپیہ ادا کر کے زمین پر قبضہ نہیں کیا۔بلکی الٹا ناجائزطور پر پولیس وغیرہ کے زریعہ بکر سے مبلغ دس ہزار روپیہ وصول کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا ایک اہم بات یہ ہے کہ زید کے ٹھیکہ سے فرار اور کاشت کا وقت گزرجانے کی وجہ سے بکر کا مبلغ دو ہزار روپیہ سے کہیں زیادہ مالی نقصان ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ اندریں صورت زید مبلغ دو ہزار روپیہ پیشگی والا بکر سے واپس لینے کا حقدر ہے یا نہیں؟

)سائل مولوی محمدعبد اللہ چک 320 ٹی ڈی اے تحصیل لیہ ضلع مظفر گڑھ(

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

رقم کے متعلق جو طرفین نے عدم ادائگی کی صورت میں ایک دوسرے پر تاوان ڈالا ہے یہ جوئے کی صورت ہے یہ جائز نہیں بلکہ حرام ہے قرآن مجید میں ہے۔

یَـٰٓأَیُّہَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَیْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَـٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّیْطَـٰنِ )مائدہ(

شراب ۔جوا ۔غیر اللہ کی پرسش کے مقامات اور فال ڈالنے کے تیر یہ گندگی اور شیطانی کام ہیں اس سے بچو۔

اب ہر دو فریق کو توبہ کرنی چاہیے۔اور آئندہ ایسا کام نہیں کرنا چاہیے۔

)اخبار اہل حدیث لاہور جلد2 شمارہ 38(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 144

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت