فهرس الكتاب

الصفحة 1174 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید نے بکر سے اس کے حصے کی زمین رہن اس شرط پر لی ہے کہ جب زرا صلی بکر ادا کر دے ، تو اپنی زمین پر قبضہ کرلے زید اس مرہونہ زمین میں کا شت کرتا ہے اور مالگذاری سرکاری جو بکر ادا کرتا تھا ، وہ اب زید اپنے پاس سے ادا کرتا ہے اور جو زمیں آسامیاں کے قبضہ میں ہے ، ان سے مالگذاری وصول کرکے سرکاری لگان ادا کرکے بقیہ اپنے تحت و تصرف میں لاتا ہے کوئی مقرر ہ منافع نہیں ہے زید کو کبھی فائدہ ہوتا ہے کبھی نقصان لہذا سوال یہ ہے کہ اس طرح زمین رہن لینا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت مرقومہ سود ہے ، (۱۷دسمبر ۱۹۱۵ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 440

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت